وو(ہ٥ ۱۹ ء/و ١۱۱ء2۲
اچ ڈو 2 7
سم وا یر لاہ لا کال لو لک
ا3 نمو ا دعی ۱ء
ارس ۳ : / ۱
جک ئ0۷ گا کت سے سا ا 0ے
کر ا2
از ری ہابت وی کے
2 ساس
ضا نان روالد ٰ ۱
٭ اس بات کے جیے نہ پڑھ کی ان تىھ2
۱٢۲۱۷۰۲۵ 800]٥يؾ 011۲٥٤ ا٥ ۸5۱٥6 7٢
ھ٣ 0.٦
۸ وٍ9( 5ا
2 جزوجج جع 1
۸۷
مم اللہ کس ٹر
معاشرے میں ناازھاقو لک وج بات میں سےایک وجہ......اور کہ
اس سیل ےعلق 1ظ اصلائی رسالہ
آخر جھگڑاکیوں:
۲ پیج :
بل میاں چیوکی کے ورمیان جھڑا..........جلاچادوگروادیا ے_
چل ساس وی ڑا 1ود پل دوسنتوں کے ورمیان بھھڑا_
پل ایک دوس کی ٹاگی کھتنا ....
پل خخیہ پا قیںس سنا اوردوسروں کےحی ب :لاش شکرنا۔
بل اس بات کے جییے نہپ جس سکا لیس
کی بات دوصرد ںکوشہیچیا ؟... ججھو ٹ ےکا منکالا......... یہی ٹکاہگا۔
مصنف: ابچ تاب ححضرت ۳اا ناش ر۶ فان فا درگ غفرتہ
انتساب
ماپ ادلی یکا کواپنےا تار حضرت ملا
موا نامضتقیشھ اک دامت برکا مالعا لی کی طرف مو بت ہوں-
اتارک تتھالی ال سج یکو پٹی بارگاہ میں قیول ومنفورف رما اوراں
رسال لی دا کے لئ اصلا کاساماان بنائۓ -
آ ین ہیادا لی الا من
۴۱٢۲ ۱۷۰۲۷٢ 8ہا٥ي 601161٤ ۲٢ ۸۱٢١۷۱۲٢۲ ۱1۲٥86 7٢
.).)
3
َلْحَمْة لِله رَتٍ العلَیْنَوَالصُلوهوَالسُلامٌ عَلی مَنْ کان نیا وَآمَم ین الّمَاء وَالطیْنِ
اڈ قَاَوذباللہ نان الرُجیٔم ہم الله ارم الرّحیْم
فارِئینِ مُخترُم احصرر حاض می ہم د پور ہے ہی ںکمعاخشرے می دن بن
سا جا بک نے کے ہا ےک بنرکر کے ان برائیوں بیس ممتغ رق وشخو ل نظ رآرے
اگمر اان تباجتوں کے اساب پور پگ رکیاجااۓ ذظاہراس کےکئی اسباب
دکھائی دی ہیں..... یں اسباب میں سےای کشم بب ”یك طرفه بات سن
کےسالے می کوک یبھی شع نی بچھوڑابنقر با ہرشع ”یك طرفه بات سن کر
بڑے بڑے فیصلے کرلئے جات ہہیں “من جب یقت معلوم ہولی ے
پچتناوے کے سوا بات اتکی ںآ تا۔
یہی قاحت ہےء جوخودکی اگمناہوں آپ2راران گی ہے گرا
کا فو ریکل نکیا جا ونتیسسجة خر تا بر بادہوثی ہی ےد نیدی خقصا نکاباع نگ
ے۔
ےل :کھمروں کے ماحو لکودیچھا جا ۓ نے فتنہ وفسمادکی سب سے بڑ یی اور بذیادی
بجی نظ رآ ی ے. مثلا:۔
رتس
15
4
میاں بیوی کے درصسیان جگھڑا : .ا نے بہواویکام ے
گی جب شو ہرصاح بش ریف لا ۓفذ ساس نے فور اپنے ٹ ےکوشکای تکردی۔
کہ بنا ! نج بیس مہو سے بہت نارائش ہوں بیس نے اسے صرف ای ککام
کرنے کے لئ آواز لگاگی ءکگر اس نے می ری آواز سن کے باوجود کے جواب نہ
دی بڑاا جب کواک دو تجھلگاہی دے۔
اب اگرشوہ رتیفق تک مترفت نمو نک ایر ”یك طرفه بات سن
کر بب وی سے تصدیق کئے بغیر“ اس پر بدکال یکریٹ تاقوا کےکیا
کیا مقصانات سا ۓآ ے ہیں؟
(1):ز وج ےعحبت می ھی دا ہو جائی ے یوک ز وج سےتفحمد لی شکرنے
کی ہنا برا سےتقیقتکاعلم پیئیس ہوتاءاوردد انی ز ود فصوروارچا نر مُسنقْرُ+وجاتاے
جوخو و سیک ے و
(2) یا بچھرز و کوڈ اٹ مارن لک جا تا ہے جک مو طلا یک باعث بط ے-_
روےں رح گھروں خانداوں ء رش داروں رنج پنفرعام
ہوجاتا ہے( ھی لڑائی جنگکڑ ےکا بی دی سبب جن سے )
ال کے علاوہ....اانع معاعلات می سلکثزت کے سراض چھوٹ, غیبتء چخلیء
بای تمہت ءالزام تراشھوں تی ےگنا وک پائ رکا ارنکا بک کے ایند ارک ونتعال یکو زاراش
کرنے وا لےافعال گے جات ہیں
۴۱٢۲ ۱۸۷۰۲٢ 8ہ0ا٥ي 60116٤ ۲٢ ۸۱٣٢١۷۱٢۲ ۱1۲8] ۲
جادو کروادیاھے:۔
۳ 292 ای عصورت بیگھی مشاہرہ می سآ کی ے
77 ری گورنو لک جب پر یٹایاں ہنشت ہوئی نظ رآ ٹیس ہیں نو خوا نو اشک وشب مل
و ہوتے ۰ سو زی
سیت ی۷ا 0 21 تائۓے رک بر ھ زی :
...بجی کی ہیں: نئی اکم می و چھنا چا ہق ےسب سے پل فلاں بابا
گی ماز کے لے را رکا وٹ مکھروادے ٭.....ہحورٹی بارس برا رکا نوٹ ڈا کر
دے د بت میں گر باہا سے بپیچئی ہیں باباگی !اب تا کہ جادوس نے
کرداپاہے؟.. لی ڈٹی باا گی ہجوز ان پہآیابول دی خی بھی نود *کہہدیتے ہی ںکہ
نت ری بہو ن ےکروایا ے' ز لھ یکس ریت مین خی اس کے گڑداا
9 ۹"
سوپے بے ا پنیا مہو یا پنیا ساس پ بدا ی ار کے ا نکو بر اکنا ء دوصروں سے ال نکی خیمتیں
کنا ءا نکی عمز ت خرا بکرناءانع سے بدسوکی سے یں ناش رو کرد بت سے اس طرح
6
جولڑائی بنکڑےاور فے فسادہوتے ہیں دو مسب جات ہیں۔
جوگورٹ ایی اکرلی ہیں دہ یادرگیس اک یکوئ یکتطاہی بڑاحائل ...چا ےکتا بی
کی ک نظ رآجاہ..... اکر کہرد ےکسفطاں نے چجھ پر جاددکروایا ہے یافلال نے تتبرامال
چور کیا آپ اس پہ ہرگ ہکاخ دضہکریں.....کیونکہ دی کے باارے می کوک بھی
با تکپتا سے فو استخارہ یا ححلیات کے ذر بیج اشارہ حاص لک کے بتاتاے اور اس ارہ
0 ملیات کے ذر بے ہوکھی اشارہ متا گنی ہہوتا ہے( می اس میس شک وشبرر بتاے ىہ
لی یی جس می سکوئی جک وشی نہ انیس ہوتا۔
ساس بھو میں جھگڑا:۔
ساس نے اپی وکا کہ بپوراٹی سے فلا کا مرن ےک وکہردہ...... نی نے
حض وعنادکےسبب اپٹی پھاچھ یکویپیسا نے کے لے ھا مھ یکو ہکا مرکم رن ےکو ہک ہا..... بعد
مال نے لو امہ ئیہو نے فلا کا مکردیا ہے؟ ن نی بولی ماں ! پھابھی نے نو بھی
تک وکا مکیا یں <× اب مان ( یلک یکی سا ابی ہو سے یج با کک تق دن
ہی ہت ےن وہ
780
لی - 1 7 ۶ ×۰۶" ً ج
ہت
۴۱٢۲ ۱۷۰۲٢ 8:ا٥يئ 601161٤ ۲٢ ۸۱٢١۷٢۲ ۱1۲۹۵6 ٢
+ہ چووووؤٰوچ اہراب
اکر ہار کے ماحول پرنظرکی جا فو سب سے ذزیادہ بے گنی و ےتارک یکا سبب بجی
قباحتہ ہے جس نے براٹی ود ےلوٹ بھیلائی ہوٹی سے شا:
وی کے ران نی
7 7 ہے موہ سر 0< تی فکی مدق کے بر
گال یاں د ینارد ںحکرد یہہ وہ اپنے تیسرے دوست ےج یق تکوسلنا بھ یوار نہیں
کرت نت یڈ بات لڑائی ہگھڑے خون خرا یکک جا یی ے 0
سیٹٹ اورملازم میں جگھڑیے:۔
عھو بآ یکر یں ءدکانوں مگوداموں ء وفْر وںء وئُبرہ یس جو از مین کام ارۓے
یں ان کے ما ین بھی بڑے ہڑ ےہ ”یك طرفه بات سن ک وگ ۓے
جات ہیں .... وواںطر حکمرشلا:
ٹیکٹری می ای کٹ بب ت تجربہکاں اٹ ینیم با ءاورکمت کے سات کم
7+ ہوو وت۳
ھ٭- 8
سے ےت کٹ
کے بارے می خلط با ٹن بنا ناک رمنخوصاح بکوکہناشرور عگکردی کہ ”سیسٹ سج
صساح_ں“ س ومیں طت
۸۹ھ بی طرح 2 رن ہوبارنوی ” لی ہکرکیں.
جماعتوںمکاروائول٠سیانی یاد یا فلاگی اداروں ءاسکولوں ہکا لہچوںہ ٹیو شنزہ وخیب رد شی س بھی
بوسییں۔
علماء کے ذرصیان:۔
عوامی اعتراض : عاملوگوں می لا کشر الما ہوتا ےلہد میک طرفہ
باتک نک فیصلکر لے ہیں مان علاء می ہکس ہوتاے؟
جواب ذ ہوتامی ہےک لا تحفرات کے سا تح دنہ بجوم تقد بین ومحبین
ضرورہوتے ہیں ءانپھیس متنقد بین میس پئوعلا مکوٹڑوانے وا بھی ہہوتے ہیں ء ھا لیے
اتا فکی وجہ سے متقائل علاء کے بارے میس خللط بیاٹ یکر کےخفمرعاھمکمر تے ہیں۔ ۔ مھا :
۴۱٢۲ ۱۸۷۰۲٢ 8:ا٥ي 60116٤ ۲٢ ۸۱٢١۷۱۲٢۲ ۱18۵6 ۲
.).))
9
اگرکوگی عال مخوام کےسا نٹ ۓکوکی ملہ یی لکمرےء اور ود متل ملف فی ہو اب جن علماءم
کے درمیان اختلاف ہے الن کے مق بین وین اپنی طرف سے با ٹیس بنا نک رخملطم اتل
علاءکی طر فمفسو بک کے اپنے علا کک بات ہیں ء جب علا تک دہ با خی ںپپقی ہیں
تقیق کی محرفت کے معدوم ہون ےکی وجہ سے اختلافات مزبید بڑھ جاتے ہیں نان
جب یقت معلوم ہوٹی نو انسوس افو کر نے کے علا دہ بحاص لی ہوتا۔
ایک دوسربے کی ٹانگیں کھہنچنا:۔
معاشرے میں جوٹس ذ ین ڈلہم ونیم یافہ ہو ہ تج ربکا رہہ دولت مند ہوا چھا
ال :ا ہچامفنی ہۃ: پا ج ٹس کے با کس یچھی ط رح کا نہد اد ردان بن باہر
رف ایک تحدادہوٹی ے جوان سے راو رفتتض وعناد سے وا یبھی بن جائی ہے ای
ضر داش کی ورس ما ان دلاو اکسا وا ا کن و کیا کم
تر غاب تکر نے فاست وفا ج غاب تہمرنے ء انا کی چے درب ےکا ابر تکمرنے ءلوگو ںکی
روں سگرن ےکی میلو سج کرت ہیں ء دہ ا ںکام کے لئ مخلف عم کےطرسیقے
اخنیارکرتے ہیں
چا موا قد نی سے یا نیس کے بارے می کو بھی جا مرج بک کےاس کے
پارے می پاٹ یکرٰشھتی سےاورماحول یی وہ کون یکیشکل افقتیارکر لیا سے شا :
علماء ومفتیا کرام کے بارے ٹیل بج حا سد ین ای غلط اتنس رار کرد نے
وت اس
غ١
10
ہیں جن بات ںکا علماء ومفتیا ن کرام ےکوگ یکل بینیں ہوتامیان جال کوام جب وہ
اتی ںطنی ہے یلھیں بن رک ر کے بفی تلق یئ علاء ومفتا نکرام کے پارے میس غلط
کر کے تقیق تکو جانا چا ےعوام وف ا خلط ضا عرت بک کے دوسرو نکوان کے پارے
یس بہیگ نکرنے میں مشفول ہوچائی سے اد رھ اط رفہ با تل۷ نکر شی کر نے والاء
--۔- اید تتعالی کے مقرب علاء ومشاٌٗ سے بمالع ہہ نے والا بڑے خممارے میں
رہتاہے۔ ناخ حضرت لوسف من ا اتل نہانی علیہ رحمنۃ نے یک کا تا لکی ے:
بزرگوں کے باریے میں بدگمانی نہ کرو:۔
2-2 خراسانی حاجی صاحب ہرسمال یں یاسعادت پاتے اور جب
بینیمنور حا ض ہو تےلدہال ایل مرگ حضرت طاھر بن یحی علیزَق کی
وجراپنامال ضا ححکرتے ہواطاہرصاحب خالط کہ پتہارانذ ران شر کر تے ہیں-
چنا نی سلسل دوسال انہوں نے حضرت طاهر بن یحی علیہ رمنکی غدمت
صاحب کےخواب میں ججلو وگ ہوک رپ اس طر مننیٹر اّْ مُ تم پرافسویں !ہدخھاہوںکی
بای شک نکرقم نے طاہرےیسن لو ککارشی رن کرد یا ال لکی حلاٹیکروا ور ند ہز کل
سے پیا چنا می دہ ایک فرب یک یک نکر بدکمال یکر ٹن پ خت شرمندہ ہو اورجب مد ینہ
منوردحا ضر ہو ےتسب سے پپیلےان مرگ حضرت طاھر بن یحی علیرقدکی
۴۱٢۲ ۱۷۰۲۷٢ 8:0ا٥ي 60116٤ ۲٦٢ ۸5۱٢١۷٢۲ ۱1۲٥۵6١ ۲
پا رھ ہنشت یااپاپ).
کے دولہا ہم “شف یپ نین نتم نے کے لے میارہی نر تے !تم نے خخال کین بک
طرفہ باتک نگ مہرے پارے میں مل راۓ تقا مر کے اپنی عاد کر بھانہ
ےس نےواب یڈہ تَ
لو ا وہ ا ددرے۔ال یھت
نے بےنے بی ےکا م لیا نو میبرادلی دم سے ود چودہڑگیا۔اسل پر جناب رسالت تاب
پل نے خواب می ںکرمفر ماک مھ دلاسددلا یا اورتھہارےخواب می ںتش ریف ااکر جو بھ
ارشاوفرماباتھادہنگے بتایا۔خسر اسسانی حساجسی نے خوب ذ ران شڑ لگیاءدست لاک
کی ء اور پیشالی چو نے کے بحع یک طرفہ با تک نکر را ما ھمکمر کے و لآ زار یکا با عث
نے پر ہرگ سےمعائی اگی۔
قارکی نکرام !اس حکایت می سکھوڑ اس غو ریف معلوم ہوجا ت ےگاک اگ رکوکی
ای ےو وا انت یکر .... وا سک بات پرآکھبنرکر کے اعخاد
کرنا ای دج ہکی حماقت دبہے وقوفی پردال ےہ کیوککہ جونٹس غلط با یکرد ا ے وہ
یقت می کی پت ہت گار اہےء یا چلرد ہا کی غیببت دیاش کرد اہ ہاب اگ رکوئی اس
(مُلَحْصًا حجة الله علی العالمین ص 571)
گی بل تکو سن ےکک جاۓ او رتدب کچھ یکرتاجائے وہ ودافصل ای ےن سک گناہ پر
محاوخ تر ر پاے او رگنا ورمع نت گنا دے_
چنا غارشاوہاری تمال ے:وَلا تَعَاوَنَوَ عَلَی الثم وَالْعُڈوَان -
تَرْجَمهہ: اور مگمناہ ک ےکا ہروں پر ایک دم ےکی رد ارو-
12 0227
ےت ہت
بای سےکیرہگناەکا مق ب بھی ہور باہوتا ے۔
ری بات بی س ےک وہ خوفثواوکسی 02.07 پناء رق ع تعلق بھی
کرد ہاہھتاے۔
7۳۲ یراس حکایت سے بیٹھی معلوم ہواک ار کے کیک بندوں جیسے پل علاء
ومفتیا نکرام و با شرائا پی رانا عظام کے بارے می کی خلط با تک نکر الع سے ہلال
ران تع نکرناء دنا وآ خر تک بر بادیکاسب بھی من مکنا ے۔
اور یئ ا کسی تایویات جو ددس ول کےخلاف ہو یان لن سے علا نے
عز تھا نے والی عادات میں شا رکیا سے چنا می
سینا شم ہن فی علیہ رم ےکن لکاکئی سی
ایدرک اعمزتگھنانے وال یکو نک نکی عادٹس ہیں ؟ فرایا:
(1)ز بادولولنا(2)رازکھولنا(3) ہر کی بات (جودوسرے کےخلاف ہو )مان لینا۔
(اتحاف السادة المتقین ج9 ص 352)
چغل فور کی بات مت مانو:
ج بھی آپ کے پا ںآ رکوئی ٹف شس یک برا یکرت ہے جذودد ضس لس یکی
یب تکرتاےء اورقیب گنا ہکییرہ ہے۔اورجوٹ گنا وکی رکا اکا بکرے ود فاص
کہلاتا ہے۔اورفاس کی تریس موی چنا نے
امام جھ بن شہاب زہریی علیہ رم ایک مرعتہ بادشا+سلمان مج خعپدا لک ے
۴۱٢۲ ۱۷۰۲٢ 8:0ا٥يم 6116٤ ۲٢ ۸۱٢١۷٢۲ ۱1۲٥۵6 ۲
.).)٦
13
تایادہ ا آ دی ہے(وومھو ٹکیے بول تا ے )
امام ز ہرکی علیہ رحمنۃ نے بادشا ہک خاط بک کے فرمابا:(آ پکوچمس نے اس
طر نکی ردی وو جن یکھانے والا ہوا اور ) نل خوریھی سیا نیس ہوسلکتاء یی نکر بادشاہ
تن لگیاءاو رک ےلگا تضورآپ نے پالئل بجاف مایا برا نٹ سےکہا:اأ سب
بسلام :سیت سا انی کےسا ترلوٹ چا5راحیاء العلوم ج3 ص 193)
خفیہ باتیں سٹنا اور دوسروں کے عیب تلاش
کرنا:
ححخرت الو پ ربق رش الٹعنہ سے دوابیت ے ہیک می نے ارشمادغمایا؛
م بای سے پچ کہ بدلکای بت بن جھوٹ ہے ءاورض نو عیب جو یرون کی
اق نف سٔو_(معفق عليه )زمرا3ج6ص 409
اس خز ریثک شر نکر ہت ےگمعئی اما تاپ وف نات ین
کہ (شظن سے مراد) بلادیلء اوت مملمان بھائی کے متعلق برای
کر لینا ےک خواو اہ یکواپناڑش نیبج لاس کے پرقول (بات ) ہرک مکواپنی شی قرار
رتس
15
14
(نما7ۃام)ے۔
یآ گے فر ماتے ہیں کہا مکی بمانیاں شیطا نکی طرف سے ہو لی ہیں اور
شیطاان بڑا میھونا ہے نو انس کےگپھو بھی بڑے بی ہوتے ہیں ق رآ ننکرمم فرماتا ہے :ان
مض الظن الم (12-49) ب ےئن ککولیمما نگناہ ہو جا نا ہے۔ بآم کر با
عدحٹ پا ک ک7ا ئل ے۔
ریف ماتے یں کا ہر بات پان لگا ئۓ ہنا کی کے ہرک مکی ناش میں
رہناک یی برای ےو یس اسے بدنا مکردول دوول قرام ہیں اہ
عد یف ریف ٹل ے ؛کبارک ہے اپنے عیبوں کی تلاش
دوسرو ںکی عیب جوثی سے بازرتے۔(مر قات ]نی دداپنے عیب ڈععونر نے میں ءان سے
برک رنے میں ءایبامشخول ہوک راسے دوسروں کےعیب ڈعحون ن ےکا وقت پیش لے ۔
(مراةۃ ج6ص410)
یی اپن عیو ںک ہر رہد پت سب کےعیب دبشر
پڑیی اب ےکرقوتپ جونظھر نو خودے براکو یھی نر !! !
اس بات کے پیچھے نہ پڑھ جس کا تجھے علم نھیں :۔
وَلاَقُفْ مَالَیْسَ لُک ب عِلم ء إِؤ اَم وَالْصَرَوَالثرَادَکُلّ
ولیک كَانٗ عَنةُ سوا (پ15بنی اسرائیل36)
اور ال پات ے یی نہ یڑب جس کا ےل منہیسء بے شنک کان او راگ
۴۱٢۲ ۱۷۰٢۲٢ 8:ا٥يئ 60116٤ ۲٢ ۸۱٢١۷۱٢۲ ۱1۲٥۵6 ۲
اورول......ا نع سب ےس وال ہوناے-
تفسیز خزائن العرفان ش کور آیت کےحتکماے:
یی جس چیزکود ریکھانہہواسے ہہ ہو ایس نے درکھا( سے )..... جس سکوسناشہ
ہوا ںکیلبت(ے) پک ین نے سناڑے ).....ابین حطفہہ سے منقول ہے کجھوٹی
گواعی نہردہ.....اوزن عپاسں زی ال یما نے فرما یا کسی پردوالرام نہلگ ہجوتم ضجاتۓ ہو۔
(خزائن العرفان ص513)
کسی کی بات دوسروں کو تہ پھشنچاؤ۔
سید دوعا لگ" نے ارشادف با با: جھےکوئی صحال یس یکی طرف سےکوئی بات نہ
بے یی چا بتنا:ہو لکیتہارے پاش صاف سیآ یا کرو"
۱ ۱ ۱ (سنن ابو دائودء ج4 ص 348حدیٹ:4860)
شی برا محرث دواوکی علیہ ری حد یٹ پااکک کے ال تھے ”مجھمے
کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نە پھنچایا کرے“ گی
وضاصتکٗرتے ہو فرماتے ہیں :
”وین یکس یک یکوتاری بفعل ۳,,ے3"ٔ20ءھٌ٘ءئھ)ٗ“ 7 - اہج
کہا ءفال ال ط رر حکہد ہاتھا۔(اشعة اللعمات ج4 ص 83)
ارہ عد بیث پاک سے وولوگ در حاصم لک یں :جوش اگ کی استاذ سے بے
گا باپ سے از مکی مییٹھوے ءامام وموز نکی مسو ھی سے بلامصہنیت شر یجکردریاں
اور پرائیاں با نکر کےخبب تک اکر مگناءکر نے کے سا تھسا تا نکوا نکی نظ ےگ رانے
کی میم و مسج یکرت ہیں سشابلرانیں ا جا تکا ہش لگھ یں ہو تا دہ ایر ےکپئی
٠١
15
]
۲٦
ل3
0
16 88
بڑکی خرابیو ں کا باعث تۓے ہیں- سس یىی بات ےکہ جب شاگراپے استاکی
ءعلازم اپنے سید کی نظروں س ےگ گیا نر بے چا ر ےکا جو اضیام بہوگا دہ ہنرذ کی شمتو کہ
سکتاے۔
جھوٹے کا مث کال:۔
حضرت سیدن مرن عبدال زی شی لدع ہک خدممت پابرکت می ایخ
وا رح زان کےععی کے از می کوک فی (ء۱۷+ەو”(۸) اتکی پت
الدعنرنے فر مایا :اگرخم چا ہونتمہارے موا ےک یقی نکرمیں !اکرقم مجھوٹے ےنس
آ مت مبارکہ کے مصدا ق قرار پا گے-
...ان جَاءَ گ"م قَاسِق بنبَاعءِ تنا (پ26.الحجرات6)
...تر جمہ :اگ رکوئی فا سن تہارے پا ںکوئی خر نشی نکراو۔
ادراگرقم بے وف رآ تک بت پرصاد قآ گی۔
....مَمّاز مَشاء بنمیٔم (رب29:اقلم11)
...تر جمہ : یہت طعنرد یئ دالاء ہت ادعل ا دع رکی لگا نا نچمرنے واڑا-
اوراگرقم جا ہو ہم ہیں ما فکرد میں !اس نے عوخ کی :
یا امیرالمومنین امعافکرد تچ ۔آ دہ ٹل ای انی کرو ںگا_
(احیاء العلوم ج3 ص 193)
پیٹ کا هُلکا:۔
کیٹ نمی پزرگ علیہ رم کی پارگاہ یش حاض ہوک رانویس اع کے ووست
کی بجی (۷ 894+1 )ہٹس بای ٠اس پر انہوں نے ارشاوفرمایا:انسوں ام
۴۱٢۲ ۱۷۰۲٢ 8ہا٥ي 601161٤ ۲٦٢ ۸۱٢١۷٢۲ ۹1۲٢۵۱6 7٢
٠١
17
میرے پاس تن برائیاں نےکر ہو۔(1) جھے میرے مین بعائی سےنفرت لا گی
(2)اس وج سے میرے و لکو( تنشو یی اوروسوسوں میں )مشغخو لکیااور(3)اپنے اشن
شس پتبھت أگائی (زی]شنی میس ہیں امانت دا رتا تھا ءگرتم فو پیٹ کے کے کے زاحیساء
العلوم ج3 ص 193)
چغل خوروں سے بچو!
مز ران دبینفرماتے ہیں عقلوں کے شمنوں اورمیبتوں کے چوروں سے پاب
ور مد یکرینے وا ئ او رپچش یکھاتے وائے مین ادج رت مال رات نپ
(خییتیں چفایا ں/رنے وانے )لو نیس جراتے ہیں رالمستطرف ج1ص 151
حالتِ جھاد:۔
حضرت منصوربن زان علیہ رقف رماتے ہیں :اد زوش لک امم امیرے پا
عو جوگھ یکر متا دوج بکک چچلا نہ جاۓ ء می گیا اس کے ساتحھعالت جہادٹل
ون ہوں ۔ک یو وہ من میرے دوست ے موک نے( یتنینفردلانے )سے باڑہیں
رتاءیا مر ٹییق سر نے والو ںکیپیعتیں جح ےکک پہچیاکر جج ےتشو لی میس ڈالتا اور
1ز مانش میں ناکرا ے (تنبیه المغترین 196)
اس فساد کی جڑ کا کوٹی حل:۔
اب سوالل مہ پا ہوا ےک اگ روک یٹپ سکیا کے بارے می سکوئی بات کے
خی ںک اکنا جا ہۓے؟
7ظ 0 ر9 و7
کے و تق جب کک شیییں وہ بات (011۴161۸م)) معلوم نہ ہو ہم ا سکی تد بی نہ
0
18
- ایس کےشرسے بپچانے کے لے ا لک برائیاں ا نکرد پا نو فو ر؟اس با تک تن
کی جاۓ” ازس یتضیق کے بیکہنا اور مان لو ناکددہ ایا ے دہ ق یما سے بب انان
کرد پاے اوردونوں میں جنڑاکروانا جا تا ےن فی بات ےکاخ ٹین سے جو بات
بھی کپ یکی دہ فلط ہی گی اس صورت میں جلد ے جل رش نکی جاے....”ف گی
کرتے ہوئے مہ بات اضچائی ضرددیی ہ ےک جم نٹ نےپمیس دہ با تک ہے
اس کا نام قطعایشی ہلل ) نہ لیا جائے“ ورشہ ال سے مزری نہ وفماد میس
ہی جنکڑ ےکا مات ہوجا گا
(آپ کیوں ایسا کرتے ھیں 49
جولوک معاشرے میں فتنروفماد ھا نے کے لے ”إدھمر کی اُدمر “اور
”ُدصر کی ادصر “ لگاتے پچ رت ہیں...... میس انع سے پاتھ جو کر التچارکرتانہو ںکہ
آپ الما ہرگ نرک بی !.....کیو ںآپ لوگو ںکی زندکیو ںکا بین وسکون ناو بربادکر نے
بن ا ہے ہں؟ - کیوں آ پکس یکو ددکھ ینا چاتے یں؟ 7 ون آتے
فیبیت ,ٹچ ی بڑجمت الزام تراٹی ویر ٥نا وکی رہ کا ارانا بک کے خود اش تھا کی ناراصی
۴۱٢۲ ۱۸۷۰۲٢ 8:0ا٥يئ 60116٤ ۲٢ ۸۱٢١۷۲٢۲ ۱۲٢6ٔ ۲
ب۔لاواستمم شت اہراب
وانےافعال میں شخول ہیں؟
ایا ٹیش لکرنے وا لتھوڑ اس یں ا اک رھیرے ا پل سےککتتلوکوں میں
فی پیل جا می ںکی ء کت لوکوں ےکھ ٹوٹ جاکمیں گے کت دوستتوں می نکی ویا ڑووسوچھت
ترارپکڑنی جا ۓگی ءد ٹیک موں می سلیئی رکاوٹ ہوجات ۓےگی کٹ لوکوں میس فلیگجھیوں فدکنٹرول 4
-
کی وج ےلڑائی ہجکڑے ون خرالی ڈنل وطارگریی ہو جات گی عائل الگاہ عظۂ الْكعان شَدیدِ
اکر اس طر کی جرکتی سکرنے وانے اٹل سے پاز تہ ےو دنیا و خرت ق2 سس 5+
0227 |0 بس یت اھ نت
سے بر سے ہے میں یں
ٹس دہ پڑے تباہ دبربادہوکردہ جانمیں گے ۔ ایدارک وت لی می ںکینزمس لم سے پاک 4 ءَل کات اعد یا للّ هی الحَیطنِ
وصاف ر کے:ئیی ںآ بیں میس پیا حبتءالفت اود بھائی چا رگی کے ساتھ ز ند یگمز ارنے الچجی لا ہرمفماز ہے بعدایک پار ہچ
ینوٹ عطانراے۔امین ٹم مین
طائب دعا : ابو تراب ر۶ فان تادرکغَفرَلَهُ
رابطه نمبر:0322-2832270 ۵ 7ا ۔َٰ
: رر رر ہہ ہے شس سس رہ رہ فمُواللَهعَلیٰ دِيَفٌٗ دّےاللہ عَل نَقَِی
ُدِیُوَاہ تام سای و .الیم ھب ماز کے بعدتن ہار 4ہ
مور وا
فضیلت:قصہ پرکنٹرول +واور شیطان اور ا کلتکروں سے تفوظا رے
۴۱٢۲ ۱۷۰۲٢ 8:٥ئ 60116٤1 ۲٢ ۸5۱٣٢١۷۲٢۲۱ ۱1۲86 ۲